اسی دوران حادثے میں جان گنوانے والے تمام 15 بچوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کے جسم پر جلنے یا چوٹ کے کوئی گہرے نشانات نہیں ملے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کمرے میں اچانک بہت زیادہ زہریلا دھواں بھر گیا تھا، جس کی وجہ سے بچوں کا دم گھٹ گیا اور ان کی جان چلی گئی۔ دھوئیں کے باعث کئی بچوں کے چہروں اور آنکھوں پر سوجن بھی پائی گئی ہے۔
لکھنؤ آتشزدگی معاملہ میں ’ایل ڈی اے‘ کے مزید 5 افسران معطل