جانچ میں سامنے آیا ہے کہ رام مندر میں مختلف عہدوں پر تقریباً 125 ملازمین کی تقرری کی گئی تھی۔ الزام ہے کہ ان میں سے کئی امیدواروں نے ملازمت حاصل کرنے کے لیے پیسے دیے تھے۔
رام مندر سے متعلق مبینہ نذرانہ چوری کی جانچ کے درمیان اب ایک نیا انکشاف تقرریوں میں رشوت سے متعلق ہوا ہے۔ اس کے بعد مندر میں ہونے والی تقرریوں کا عمل بھی تحقیقات کے دائرے میں آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس ان الزامات کی جانچ کر رہی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رام مندر میں ملازمت دلانے کے نام پر رشوت لی گئی تھی۔ پولیس مختلف دستاویزات، مالی لین دین اور متعلقہ افراد کے بیانات کی بنیاد پر پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم اویناش شکلا سے پوچھ گچھ کے دوران تحقیقاتی ایجنسیوں کو کچھ ایسے اشارے ملے جنہوں نے تحقیقات کی سمت بدل دی۔ بتایا جا رہا ہے کہ پوچھ گچھ میں ٹرسٹ کے ایک رکن کا نام بار بار سامنے آیا، جس کے بعد پولیس نے اس کے کردار کی بھی جانچ شروع کر دی ہے۔ اب یہ معلوم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ مندر میں تقرریوں کے دوران کسی قسم کی مالی بے ضابطگی ہوئی تھی یا نہیں۔
کچھ میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران رام مندر میں مختلف عہدوں پر تقریباً 125 ملازمین کی بھرتی کی جانکاری دی گئی ہے۔ الزام ہے کہ ان میں سے کئی امیدواروں نے ملازمت حاصل کرنے کے لیے رقم ادا کی تھی۔ پولیس اب ان الزامات کی صداقت کی تصدیق کر رہی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیاں یہ بھی جانچ کر رہی ہیں کہ یہ معاملہ چند تقرریوں تک محدود تھا یا کسی منظم بھرتی نیٹورک کے ذریعہ یہ سب کچھ انجام دیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران پولیس نے بھرتیوں سے متعلق ریکارڈ کی چھان بین شروع کر دی ہے۔ ابتدائی جانچ میں کئی ملازمین کے حوالے سے تقرری نامے، باضابطہ ملازمت کے معاہدے یا روزگار سے متعلق دیگر ضروری دستاویزات فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔ اسی وجہ سے اب ہر تقرری کی الگ الگ جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ تقرریاں کس طریقۂ کار کے تحت ہوئیں، کس کی ہدایت پر ہوئیں اور متعلقہ دستاویزات کہاں موجود ہیں۔
تحقیقاتی ایجنسیوں کا اگلا بڑا سوال یہی ہے کہ ان تقرریوں کی منظوری کس سطح پر دی گئی تھی۔ پولیس مندر ٹرسٹ کے اس رکن سے بھی پوچھ گچھ کی تیاری کر رہی ہے جس کا نام تحقیقات کے دوران سامنے آیا ہے۔ تاہم ابھی تک اس معاملے میں کسی کے خلاف باضابطہ الزامات عائد نہیں کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ایجنسیوں نے ان افراد کی فہرست بھی حاصل کر لی ہے جنہیں مندر ٹرسٹ میں ملازمت دی گئی تھی۔ اب ہر ملازم کے دستاویزات، تقرری کے طریقۂ کار، ملازمت کے ریکارڈ اور بھرتی کے حالات کی تصدیق کی جائے گی۔ اگر کہیں کوئی بے ضابطگی یا تضاد پایا گیا تو اسے بھی تحقیقاتی رپورٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع رپورٹ کے مطابق پولیس مالی تحقیقات کے تحت تقرریوں سے وابستہ افراد اور مبینہ طور پر اس عمل میں شامل دیگر لوگوں کے بینک اکاؤنٹ اور مالی لین دین کی بھی جانچ کرے گی۔ خاص طور پر یہ دیکھا جائے گا کہ تقرریوں سے پہلے یا بعد میں کسی قسم کی مشتبہ رقم کی منتقلی ہوئی تھی یا نہیں۔ اگر بینک ریکارڈ میں کوئی غیر معمولی لین دین سامنے آتا ہے تو اس کی بھی الگ سے تحقیقات کی جائیں گی۔ تحقیقاتی ایجنسیاں ٹرسٹ کے اس رکن سے متعلق جائیدادوں کی بھی جانچ کر رہی ہیں جس کا نام پوچھ گچھ کے دوران سامنے آیا ہے۔ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ٹرسٹ سے وابستہ ہونے کے بعد اس کی جائیدادوں میں کوئی غیر معمولی اضافہ تو نہیں ہوا۔
نذرانہ چوری کے معاملہ میں گرفتار انوکلپ مشرا اور لوکش مشرا، جو اس وقت عدالتی حراست میں ہیں، اب بھرتی کے عمل سے متعلق تحقیقات میں بھی شامل کر لیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا ان دونوں نے تقرریوں کو آسان بنانے یا بھرتی کے عمل میں کسی قسم کا کردار ادا کیا تھا۔ تاہم ان الزامات کی تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گی۔ تحقیقاتی ایجنسیاں یہ بھی جانچ کر رہی ہیں کہ گرفتار دونوں ملزمین کا کسی ٹرسٹ رکن سے خاندانی تعلق ہے، اور اگر ایسا ہے تو کیا اس کا بھرتی کے عمل سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
