اویناش شکلا نے پولیس کو بتایا کہ چوری کے بعد تمام ملزمان رقم آپس میں تقسیم کر لیتے تھے۔ زیادہ تر معاملات میں رقم برابر برابر تقسیم کی جاتی تھی۔ حالانکہ کئی بار کچھ لوگ زیادہ حصہ بھی لے جاتے تھے۔
ایودھیا رام مندر میں عطیات چوری معاملے میں تحقیقات جیسے جیسے آگے بڑھ رہی ہے، ویسے ویسے نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔ پولیس حراست میں ملزم اویناش شکلا سے ہوئی پوچھ تاچھ میں کئی ایسی باتیں سامنے آئی ہیں، جو اس پورے نیٹورک کو سمجھنے میں اہم مانی جا رہی ہے۔ اویناش نے تسلیم کیا کہ عطیات سے نکالی گئی رقم ملزمان کے درمیان تقسیم کی جاتی تھی، چوری کے ثبوت مٹانے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج ڈیلیٹ کرنے کی کوشش ہوتی تھی۔ 13 گھنٹے کی پولیس کسٹڈی ریمانڈ کے بعد رام مندر عطیات چوری کے ملزم اویناش شکلا کو ایودھیا کی جیل میں بھیج دیا گیا ہے۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق پولیس نے حراست کے دوران اویناش شکلا کو تقریباً 45 دنوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ویڈیو دیکھنے کے بعد اویناش ٹوٹ گیا اور اس نے چوری میں اپنا کردار قبول کر لیا۔ پوچھ تاچھ میں اس نے مانا کہ وہ مسلسل عطیات کی رقم میں ہیرا پھیری کرتا تھا اور اس کام میں وہ اکیلا نہیں تھا۔ اویناش نے پولیس کو بتایا کہ چوری کے بعد تمام ملزمان رقم آپس میں تقسیم کر لیتے تھے۔ زیادہ تر معاملات میں رقم برابر برابر تقسیم کی جاتی تھی۔ حالانکہ کئی بار کچھ لوگ زیادہ حصہ بھی لے جاتے تھے۔
پوچھ تاچھ کے دوران اویناش نے یہ بھی کہا کہ پورے نیٹورک میں ٹنو یادو کا دبدبہ تھا۔ ملزمان کے درمیان ان کی بات حرف آخر تصور کی جاتی تھی اور پورے پلان میں اس کا کردار اہم تھا۔ پوچھ تاچھ میں سامنے آیا کہ ملزمان کو پکڑے جانے کا ڈر بہت کم تھا، اور اس کی وجہ بھی بتائی۔ اویناش کے مطابق ٹنو یادو اکثر کہا کرتا تھا کہ کچھ نہیں ہوگا، سی سی ٹی وی فوٹیج دیلیٹ کر دی جائیں گی۔ ٹنو کی ذمہ داری نگرانی سے متعلق تھی، یہی وجہ ہے کہ سیکورٹی انتظامات میں اس کی موجودگی پر کسی کو شک نہیں ہوتا تھا۔ الزام ہے کہ اسی بھروسے کا فائدہ اٹھا کر ملزم طویل عرصے تک عطیات کی رقم نکالتا رہا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ چوری چھپانے کے لیے ملزمان نے کئی بار سی سی ٹی وی سسٹم سے چھیڑ چھاڑ کی۔ ملزم کنٹرول روم تک پہنچتے تھے اور وہاں موجود ریکارڈنگ سسٹم سے فوٹیج ڈیلیٹ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک دو بار وہ فوٹیج ڈیلیٹ کرنے میں کامیاب بھی رہے۔ حالانکہ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے لیے ضروری اہم سی سی ٹی وی فوٹیج اس کے قبضے میں ہے اور اسی کی بنیاد پر پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ جب عطیات کی رقم کی گنتی ہوتی تھی تب کنٹرول روم کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جاتی تھی۔ اگر کوئی ملازم کنٹرول روم کی جانب آتا دکھائی دیتا تھا تو اس کی توجہ دوسری جانب مبذول کرانے کی کوشش کی جاتی تھی تاکہ چوری اور سی سی ٹی وی سے چھیڑ چھاڑ کے متعلق کسی کو علم نہ ہو۔ پوچھ تاچھ میں اویناش نے مبینہ طور پر یہ بھی تسیلم کیا کہ چوری کی رقم کا استعمال ذاتی کاموں میں کیا گیا۔ اس نے چوری کے پیسوں سے ایک بریزا کار خریدی۔ کار اپنے بھائی ابھیشیک کے نام پر خریدی گئی۔ اویناش نے اپنے گاؤں میں گھر بنوانے اور اپنے بھائی کو بھی بڑی رقم دینے کی بات قبول کی ہے۔
پوچھ تاچھ میں پتہ چلا کے چوری کے بعد ملزمان آپس میں میٹنگ کرتے تھے۔ یہ میٹنگ 14 کوسی پریکرما مارگ کے سنسان علاقے میں ہوتی تھی۔ ان میٹنگوں میں انوکلپ مشرا، لوکش مشرا اور رماشنکر مشرا سمیت تمام 6 ملزمان شامل ہوتے تھے۔ بعد میں ٹنو یادو کا بھتیجا بھی ان میٹنگوں کا حصہ بننے لگا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ مئی کے آخری ہفتے میں معاملہ پبلک ہونے سے عین قبل بھی ایسی ایک میٹنگ ہوئی تھی۔
واضح رہے کہ پولیس اب اس معاملے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہی ہے۔ ان میں یہ معلوم کرنا شامل ہے کہ چوری کب سے چل رہی تھی، مجموعی طور پر کتنی رقم کی ہیرا پھیری ہوئی، سی سی ٹی وی فوٹیج کتنی بار ڈیلیٹ کی گئی، کس نے کس سطح پر مدد کی اور چوری کی رقم کن کن لوگوں تک پہنچی۔ اس کے علاوہ ملزمان کے اثاثوں، بینک کھاتوں اور حالیہ سالوں میں کی گئی خرید و فروخت کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ فی الحال اس معاملے میں تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
