وزارت داخلہ نے کہا کہ ’’دہشت گرد قرار دیے گئے 23 افراد جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کی بھرتی، دراندازی، ٹریننگ، ڈرون کے ذریعہ اسلحوں کی سپلائی اور حملوں کی سازش میں شامل تھے۔‘‘
دہشت گردی کی کمر توڑنے کے لیے مرکزی حکومت نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ حکومت نے ہفتہ (4 جولائی) کو پاکستان واقع جیشِ محمد اور لشکرِ طیبہ سے وابستہ 23 افراد کو آفیشیل طور پر دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کی بھرتی، دراندازی، ٹریننگ، ڈرون کے ذریعہ اسلحوں کی سپلائی اور حملوں کی سازش میں شامل تھے۔ حکومت کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب سیکورٹی ایجنسیاں سرحد پار سے چلنے والے دہشت گردانہ نیٹورک، ڈرون کے ذریعہ ہتھیاروں کی سپلائی اور سوشل میڈیا کے ذریعہ انتہا پسندانہ بھرتی کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر کے 23 دہشت گردوں کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون یعنی ’یو اے پی اے‘ کے تحت دہشت گرد قرار دیا ہے۔ ان تمام 23 ناموں کو ’یو اے پی اے‘ کے چوتھے شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر دہشت گرد جیش محمد اور لشکر طیبہ سے وابستہ ہیں اور پاکستان یا پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں رہ رہے ہیں۔
اس فہرست میں لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ محمد سعید کے 3 قریبی ساتھی بھی شامل ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق یہ تینوں ہندوستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے اور نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف راغب کرنے میں براہ راست ملوث رہے ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق 54 سالہ رانا افتخار مختلف جہادی تنظیموں کے درمیان ربط قائم کرتا ہے اور نوجوانوں کو دہشت گردانہ کارروائیوں میں شامل ہونے کی ترغیب دلاتا ہے۔ 52 سالہ عبد الرؤف لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ دونوں سے وابستہ ہے۔ وہ فنڈز جمع کرنے اور دہشت گردانہ منصوبے تیار کرنے میں مصروف ہے اور براہ راست حافظ سعید کی کمانڈ میں کام کرتا ہے۔ 51 سالہ حافظ خالد ولید کو کئی دہشت گردانہ واقعات کا ماسٹرمائنڈ بتایا گیا ہے، وہ حافظ سعید کی سیکورٹی میں رہتے ہوئے دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دیتا ہے۔
ان 23 ناموں میں 3 ایسے دہشت گرد ہیں جن کا تعلق 2016 میں ناگروٹا میں آرمی کیمپ پر ہوئے حملے سے بتایا گیا ہے اور 2 کا تعلق 2018 میں سنجواں ملٹری اسٹیشن پر ہوئے حملے سے ہے۔ 52 سالہ مفتی محمد اصغر خان عرف ابو سعد، جو ’پی او کے‘ کے عباس پور کا رہنے والا ہے، کو جیشِ محمد کا لانچنگ کمانڈر بتایا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں اسے 29 نومبر 2016 کو ناگروٹا میں آرمی کیمپ پر حملے کا ایک اہم سازش کار کہا گیا ہے۔ 56 سالہ حافظ عبدالشکور پر بھی ناگروٹا حملے میں ملوث ہونے اور جیش کے لیے جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کو لانچ کرنے کا الزام ہے۔ 47 سالہ عبداللہ جہادی کا نام بھی ناگروٹا حملے سے جڑا ہے۔
وزارت داخلہ نے کہا کہ سیکورٹی اور تحقیقاتی ایجنسیاں مسلسل ان کراس بارڈر نیٹورک پر نظر رکھ رہی ہیں جو ڈرون، انکرپٹڈ کمیونیکیشن اور آن لائن بھرتی کے ذریعے جموں و کشمیر میں دہشت گردی کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان 23 افراد کو یو اے پی اے کے تحت دہشت گرد قرار دینے کا مقصد ان کے اثاثے ضبط کرنا، سفر پر پابندی لگانا اور ان کے نیٹورک کو توڑنا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ پاکستان کی سرزمیں سے چلنے والے ان ماڈیولز نے گزشتہ کچھ سالوں میں ڈرون کے ذریعے ہتھیار گرانے اور سوشل میڈیا کے ذریعے شدت پسندی پھیلانے کا نیا طریقہ اپنایا ہے۔ اس فہرست سے سیکورٹی ایجنسیوں کو ان کے خلاف مزید سخت کارروائی کرنے کا قانونی جواز ملے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
