گوا میں جرم  اور بے روزگاری عروج پر، وزیر اعلیٰ بدعنوانی میں ملوث، عوام میں شدید ناراضگی: کے سی وینوگوپال

گوا میں جرم  اور بے روزگاری عروج پر، وزیر اعلیٰ بدعنوانی میں ملوث، عوام میں شدید ناراضگی: کے سی وینوگوپال

کانگریس لیڈر وینوگوپال نے کہا کہ ’’غزنوی نے 27 سالوں میں 17 بار سومناتھ مندر کو لوٹا تھا، لیکن بی جے پی-آر ایس ایس کے ذریعہ بنائے ٹرسٹیوں نے صرف 42 دنوں میں شری رام مندر کو 70 بار لوٹا۔‘‘



<div class="پیراگراف">
<p>کے سی وینوگوپال، ویڈیو گریب</p>
</div>
<p>” class=”qt-image”/><img decoding=
صارف
google_preferred_badge

کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے آج گوا کے خستہ حال نظام قانون اور بے روزگاری پر بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ خاص طور سے ریاست کے وزیر اعلیٰ کو بدعنوانی میں ملوث ٹھہراتے ہوئے کہا کہ عوام میں اس حکومت کے خلاف شدید ناراضگی ہے۔ یہ بیان انھوں نے گوا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔

اس موقع پر وینوگوپال نے ایودھیا کے شری رام مندر میں مبینہ نذرانہ چوری معاملہ پر بھی اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا۔ انھوں نے اس چوری کے لیے بی جے پی-آر ایس ایس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے پی ایم مودی کو خط لکھا ہے، جس میں مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے۔ نذرانہ چوری معاملہ پر تلخ انداز اختیار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’غزنوی نے 27 سال میں 17 بار سومناتھ مندر کو لوٹا تھا، لیکن بی جے پی-آر ایس ایس سے جڑے ٹرسٹیوں نے محض 42 دنوں میں شری رام مندر کو 70 بار لوٹا ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈران بھگوان میں عقیدہ رکھتے ہیں، لیکن لوگوں کو تقسیم کرنے اور مندر لوٹنے کے لیے۔ اس مہاگھوٹالہ کو انجام دینے والوں کو مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ یوپی حکومت کا تحفظ بھی حاصل ہے۔

کے سی وینوگوپال نے اس پریس کانفرنس سے قبل ریاست کے سینئر لیڈران اور انچارج کے ساتھ الگ الگ میٹنگیں کی تھیں۔ اس کے بعد سیاسی معاملوں کی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی، جس میں موجودہ سیاسی حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور آئندہ اسمبلی انتخاب کے لیے تنظیمی سطح پر تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ وینوگوپال نے اس بارے میں بتایا کہ گزشتہ 2 دنوں سے انھوں نے گوا کانگریس کے لیڈران اور عہدیداروں کے ساتھ تنظیمی بدلاؤ، عہدیداروں کی تقرریوں اور آئندہ انتخاب کی حکمت عملی سے متعلق تجزیاتی میٹنگیں کیں۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ گوا کی عوام موجودہ بی جے پی حکومت کی پالیسیوں سے پریشان ہو چکی ہے۔ ترقی کے نام پر مقامی لوگوں کی قیمتیں زمینیں چھینی جا رہی ہیں، اصولوں میں خصوصی التزامات کر مقامی بلدیوں کو پوری طرح سے درکنار کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر پرمود ساونت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بدعنوانی میں ملوث ہیں۔

گوا میں بڑھتے جرائم پر مبنی اعداد و شمار کو سامنے رکھتے ہوئے وینوگوپال نے کہا کہ گزشتہ 4 سالوں میں گوا میں جرائم کا گراف تیزی سے بڑھا ہے۔ اس دوران ریاست میں 127 قتل، 383 عصمت دری، 2113 چوری و ڈکیتی کے معاملے، 354 اغوا اور 1127 حملے کی وارداتیں درج کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے روزگار سے متعلق سبھی وعدے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں، اور آج گوا میں بے روزگاری شرح سب سے اونچی سطح پر ہے۔ انھوں نے بھروسہ دلایا کہ آئندہ انتخاب میں ریاست کی عوام اس حکومت کو اکھاڑ پھینکے گی۔

گوا میں ’دَل بدل کی سیاست‘ پر اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ انگریزوں کی پالیسی ’پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘ کی تھی، لیکن بی جے پی نے اب ’چوری کرو اور راج کرو‘ کے ساتھ ساتھ ’توڑو اور راج کرو‘ کا نیا فارمولہ نکالا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور سی بی آئی جیسی ایجنسیوں کے دَم پر دیگر پارٹیوں کے لیڈران کو بلیک میل کر دَ بدل کو فروغ دے رہی ہے، جو ہندوستانی جمہوریت کے لیے بے حد خطرناک ہے۔‘‘ ملک میں لگاتار ہو رہے پیپر لیک کے معاملوں پر حملہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ طلبا کا مستقبل پوری طرح خطرے میں ہے، لیکن دھرمیندر پردھان اب بھی وزیر تعلیم بنے ہوئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


]

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *