خارجہ پالیسی پر حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران ہندوستانی سیکورٹی فورسز نے کامیابیاں ضرور حاصل کیں، لیکن سفارتی سطح پر ملک کو بڑا نقصان پہنچا۔
کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے آج پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس، انتخابی اصلاحات، الیکشن کمیشن، خارجہ پالیسی، رام مندر کے نذرانوں میں مبینہ بدعنوانی اور آئینی معاملات پر مرکز کی مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن مل کر کام کر رہے ہیں، جس سے ملک کا انتخابی نظام خطرے میں ہے۔ خارجہ پالیسی بھی ناکام ہو چکی ہے اور حکومت اہم قومی مسائل پر پارلیمنٹ میں بحث سے گریز کر رہی ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ کانگریس آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہے اور مختلف ریاستوں میں تنظیمی سطح پر میٹنگیں شروع ہو چکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس صرف بی جے پی کے خلاف نہیں بلکہ ’بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے اتحاد‘ کے خلاف بھی لڑ رہی ہے۔ علاوہ ازیں پارٹی اپنی تنظیم کو مضبوط بنانے میں لگی ہوئی ہے اور اسے درپیش چیلنجوں کا بخوبی اندازہ ہے۔
ایس آئی آر سے متعلق اپنی بات رکھتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ ڈی ایم کے اور عام آدمی پارٹی (عآپ) سمیت 24 سیاسی پارٹیوں اور آزاد رکن پارلیمنٹ کپل سبل نے مشترکہ طور پر ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے عمل، الیکشن کمیشن کے مبینہ جانبدارانہ رویے، ’سیٹ چوری‘ اور ’ووٹ چوری‘ جیسے معاملات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ لاکھوں لوگوں کے نام انتخابی فہرستوں سے نکالے جا رہے ہیں اور انھیں حق رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق عوام میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ انتخابات کے نتائج پہلے ہی طے کر لیے جاتے ہیں۔ اگر نتائج پہلے سے طے ہوں تو پھر انتخابات کرانے کا مقصد ہی کیا رہ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ چیف جسٹس اس معاملے میں کیا قدم اٹھاتے ہیں۔
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ہندوستان کا آئین اور انتخابی نظام حملوں کی زد میں ہے اور عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے رویے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال، بہار، مہاراشٹر اور ہریانہ میں اس کے طرز عمل سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کمیشن وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے اشاروں پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’ملک میں صرف ووٹ اور سیٹوں کی ہی نہیں بلکہ چندوں کی بھی ’چوری‘ ہو رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں ووٹ، سیٹ اور چندہ تینوں کی چوری ہو رہی ہے، وہاں ’ٹرپل انجن حکومت‘ ہے۔
جئے رام رمیش نے ’اے این آئی‘ سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) بل دوبارہ لا سکتی ہے اور ’ون نیشن، ون الیکشن‘ کا بل بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکنے کی وجہ سے انتقامی سیاست کر رہی ہے، سیاسی پارٹیوں کو توڑا جا رہا ہے اور اس کا اصل مقصد آئین میں تبدیلی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 400 سیٹوں کا نعرہ بھی اسی لیے دیا گیا تھا تاکہ آئین میں ترمیم کی جا سکے۔ حکومت ریزرویشن اور سماجی انصاف کے مسائل سے بچنا چاہتی ہے اور اسی لیے دو تہائی اکثریت کی خواہاں ہے۔
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے متعلق جئے رام رمیش نے آل پارٹی میٹنگ کو محض رسمی کارروائی قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دفاعی وزیر اجلاس میں آکر تقریر کرتے ہیں، ارکان کی بات سنتے ہیں، لیکن بعد میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے دفتر کی طرف سے جو ایجنڈا طے ہوتا ہے، وہ اس اجلاس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے ایسی میٹنگوں کی کوئی عملی اہمیت نہیں رہ جاتی۔ خارجہ پالیسی پر حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران ہندوستانی سیکورٹی فورسز نے کامیابیاں ضرور حاصل کیں، لیکن سفارتی سطح پر ملک کو بڑا نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو گلے لگا رہے ہیں اور پاکستان کو عالمی سطح پر دوبارہ اہمیت مل رہی ہے۔ جس پاکستان کو دہشت گردی کی ’فیکٹری‘ کہا جاتا تھا، اسے اب عالمی سطح پر کلین چٹ دی جا رہی ہے، جو ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔
خارجہ پالیسی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری نے مزید کہا کہ چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ سال چین سے درآمدات 115 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا۔ گزشتہ 6-5 برس سے چین کے معاملے پر پارلیمنٹ میں کوئی بحث نہیں ہونے دی جا رہی اور نہ ہی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے کو بھی یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’ڈیل نہیں بلکہ لوٹ‘ ہے۔
جئے رام رمیش نے ایودھیا کے رام مندر، کیدارناتھ اور بدری ناتھ مندروں میں مبینہ چندہ خرد برد کے معاملات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رام مندر کے نام پر ووٹ لیے گئے، لیکن اب رام کے نام کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ افراد ان ٹرسٹوں میں شامل ہیں، اس لیے حکومت کو ان معاملات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ انہوں نے مدھیہ پردیش میں مبینہ زرعی گھوٹالے، اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ کے خلاف سپریم کورٹ کی جانب سے سی بی آئی جانچ کے حکم، 1200 کروڑ روپے کے مبینہ ٹھیکوں اور ایتھنول بلینڈنگ سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ کے خلاف سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود 4 ماہ گزر جانے کے بعد بھی وہ اپنے عہدے پر برقرار ہیں۔ اتنا ہی نہیں، جن فائلوں کی جانچ ہونی چاہیے وہ اب بھی انہی کے کنٹرول میں ہیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں ان تمام معاملات، بشمول انتخابی نظام، خارجہ پالیسی، ڈیلمیٹیشن، معاشی مسائل، مبینہ بدعنوانی اور آئینی اداروں کے کردار پر حکومت کو جواب دینا ہوگا۔ انھوں نے اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں متحد ہو کر ہر اہم معاملے پر سوال کریں گی اور حکومت کو عوام کے سامنے جوابدہ بنائیں گی۔
