رام مندر کے بعد اب ’بدری-کیدار مندر کمیٹی‘ میں بھی بدعنوانی کا الزام، آری ٹی آئی سے ہوا انکشاف

رام مندر کے بعد اب ’بدری-کیدار مندر کمیٹی‘ میں بھی بدعنوانی کا الزام، آری ٹی آئی سے ہوا انکشاف

سماجی کارکن اور سینئر وکیل وکیش سنگھ نیگی نے الزام عائد کیا کہ کئی معاملات میں ذیلی کمیٹیوں کی میٹنگوں اور دھاموں کے ذاتی دوروں کو بھی سرکاری پروگرام ظاہر کر کے الاؤنس حاصل کر لیا گیا۔



<div class="پیراگراف">
<p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p>
</div>
<p>” class=”qt-image”/><img decoding=
صارف
google_preferred_badge

رام مندر میں مبینہ طور پر نذرانہ چوری کا معاملہ سرخیوں میں ہے، لیکن ساتھ ہی اب دیگر مندروں اور مندر کمیٹیوں میں بھی بدعنوانی کے معاملے سامنے آنے لگے ہیں۔ تازہ ترین معاملہ ’بدری-کیدار مندر کمیٹی‘ (بی کے ٹی سی) کا ہے، جہاں مبینہ بدعنوانی کو لے کر ایک بار پھر سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ سماجی کارکن اور سینئر وکیل وکیش سنگھ نیگی نے حق اطلاعات (آر ٹی آئی) کے تحت حاصل کردہ دستاویزات کی بنیاد پر الزام عائد کیا ہے کہ مندر کمیٹی کے بعض اراکین نے ایک سال سے کم مدت میں ٹی اے/ڈی اے (سفری و یومیہ الاؤنس) کے نام پر لاکھوں روپے کی بے ضابطہ ادائیگیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے اسے عقیدت مندوں کے چندے اور نذرانوں کی رقم کا غلط استعمال قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ایک پریس کانفرنس کے دوران وکیش سنگھ نیگی نے بتایا کہ بی کے ٹی سی کی جانب سے آر ٹی آئی کے جواب میں فراہم کی گئی معلومات کے مطابق مندر ایکٹ کی دفعہ 26(چ) کے تحت کمیٹی کے اراکین کو صرف کمیٹی سے متعلق کاموں کے لیے سفر کرنے پر ہی اعزازیہ یا سفری الاؤنس دیا جا سکتا ہے۔ اس کے تحت اراکین کو اراکین اسمبلی کے مساوی یومیہ 6000 روپے کا الاؤنس اور 4 روپے فی کلومیٹر کے حساب سے سفری خرچ دیا جاتا ہے۔ نیگی نے واضح کیا کہ اس ضابطہ کا مطلب یہ ہے کہ صرف بورڈ یا ذیلی کمیٹیوں کی سرکاری میٹنگوں میں شرکت کرنے پر ہی الاؤنس کی ادائیگی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی کے ٹی سی بورڈ کے موجودہ اراکین کی نامزدگی گزشتہ سال جون میں ہوئی تھی، لیکن اس کے باوجود بعض اراکین نے محض 8 ماہ کے اندر غیر معمولی اور مشتبہ انداز میں ادائیگیاں حاصل کر لیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس مدت میں بورڈ کی صرف ایک ہی میٹنگ منعقد ہوئی تھی۔

نیگی نے الزام عائد کیا کہ کئی معاملات میں ذیلی کمیٹیوں کی میٹنگوں اور دھاموں کے ذاتی دوروں کو بھی سرکاری پروگرام ظاہر کر کے الاؤنس حاصل کر لیا گیا۔ مثال کے طور پر، اس سال فروری میں بسنت پنچمی کے موقع پر بدری ناتھ دھام کے کپاٹ (دروازہ) کھولنے کی تاریخ طے کرنے کے لیے نریندر نگر راج محل میں منعقد پروگرام میں بیشتر اراکین نے اپنی موجودگی ظاہر کر کے ادائیگی حاصل کی۔ حالانکہ یہ پروگرام روایتی طور پر ٹہری راج خاندان کی جانب سے منعقد کیا جاتا ہے اور اس کا مندر کمیٹی کے کاموں سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

اسی طرح دھاموں کے کپاٹ بند ہونے کے مواقع پر بھی بعض اراکین کی جانب سے حاضری درج کراتے ہوئے الاؤنس لینے کے الزامات لگے ہیں۔ نیگی نے یہ بھی بتایا کہ بعض ارکان کے کیدارناتھ دورے کے لیے ہیلی کاپٹر کرائے کی ادائیگی بھی مندر فنڈ سے کی گئی۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک رکن ڈاکٹر ونیت پوستی نے کیدارناتھ، بدری ناتھ اور تُنگ ناتھ کے کپاٹ بند ہونے کے مواقع سمیت مدمہیشور میلے میں شرکت کے لیے بھی الاؤنس حاصل کیا۔ ایک دوسرے رکن پرہلاد پشپان نے بھی مختلف دھاموں کے دوروں کے نام پر ادائیگیاں حاصل کیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پشپان کے مدھی مہیشور دورے سے متعلق فائل پر محکمۂ حسابات نے یہ اعتراض درج کیا تھا کہ بل کی توثیق صدر کی جانب سے نہیں کی گئی، اس کے باوجود ادائیگی کر دی گئی۔

نیگی کا کہنا ہے کہ بی کے ٹی سی کے عہدیداروں کی جانب سے عقیدت مندوں کے چندے کی رقم کا اس طرح ذاتی استعمال انتہائی سنگین اور قابل اعتراض ہے۔ مندر ایکٹ کے تحت صدر، نائب صدر اور تمام اراکین عوامی خدمت گار (لوک سیوک) کے زمرے میں آتے ہیں، اس لیے اس قسم کے معاملات میں انسداد بدعنوانی قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی نیگی نے مندر فنڈ سے وی آئی پی عقیدت مندوں کی مہمان نوازی اور دیگر اخراجات کو لے کر سوالات اٹھائے تھے، جس سے تنازعہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ انہوں نے بی کے ٹی سی کے نائب صدر وجے سنگھ کپرواں پر بھی الزام لگایا تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو چہارم درجے کی ملازم ظاہر کر کے ادائیگی حاصل کی اور اپنے گھر کو دفتر ظاہر کر کے ہر ماہ رقم وصول کی۔ اس کے علاوہ مندر فنڈ سے 11 لاکھ روپے تیرتھ پروہتوں میں تقسیم کیے جانے کا بھی انکشاف کیا گیا تھا۔ اس پورے معاملے میں بی کے ٹی سی کے صدر ہیمنت دویدی کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی، لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ نیگی نے کہا کہ اگر صدر یا کمیٹی کا کوئی بھی موقف سامنے آتا ہے تو اسے بھی عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔


]

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *