رام مندر میں چندہ چوری سے مقامی روزگار ٹھپ، سنگھ پریوار کو دھچکہ…سہیل انجم

رام مندر میں چندہ چوری سے مقامی روزگار ٹھپ، سنگھ پریوار کو دھچکہ…سہیل انجم

رام مندر میں نذرانہ چوری کے انکشاف کے بعد ایودھیا میں شردھالوؤں کی آمد اور مقامی کاروبار متاثر ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ معاملے پر سیاسی بحث تیز ہے جبکہ ٹرسٹ اور ذمہ داران کے کردار پر بھی سوالات اٹھے ہیں



<div class="پیراگراف">
<p>علامتی تصویر / اے آئی</p>
</div>
<p>” class=”qt-image”/><img decoding=
صارف
google_preferred_badge

رام مندر میں چندہ چوری یا چڑھاوے میں بڑے پیمانے پر خردبرد کی خبر سے پوری دنیا کا میڈیا بھرا پڑا ہے۔ اس سنسنی خیز انکشاف کے نتیجے میں کئی پہلو سامنے آئے ہیں جن پر گفتگو ہو رہی ہے۔ ایودھیا میں جو بات بہت واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے اور جس پر مقامی باشندوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے وہ ہے شردھالوؤں کی آمد میں کمی اور مقامی روزگار کا ٹھپ پڑ جانا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رام مندر کے افتتاح کے بعد یہاں کاروبار میں بہت تیز اچھال آیا تھا۔ بالکل صبح سے ہی شردھالو درشن کرنے کے لیے قطار اندر قطار جمع ہو جاتے تھے۔ چونکہ وہ چڑھانے کے لیے بہت سی اشیا خریدتے تھے جس کی وجہ سے لوگوں کا بزنس بہت اچھا چل رہا تھا۔ لیکن چوری کی خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد شردھالوؤں کی آمد میں 75 فیصد کی کمی آگئی ہے اور جب شردھالوؤں کی تعداد اتنی کم ہو گئی ہے تو آمدنی میں بھی اتنی ہی کمی واقع ہوئی ہے۔ مقامی دکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ طلوع آفتاب سے قبل ہی اپنی دکانیں کھول دیتے تھے اور دکانوں پر عقیدت مندوں کی بھیڑ لگ جاتی تھی لیکن اب ان کا کہیں اتا پتا نہیں ہے جس کی وجہ سے بکری اتنی کم ہو گئی ہے بہت سے لوگوں کی دکان کا کرایہ ہی نہیں نکل پا رہا ہے۔ پہلے رام مندر کے پاس کی سڑکوں پر زبردست ہجوم ہوتا تھا لیکن اب وہاں سناٹے کی حکمرانی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق رام مندر کے افتتاح سے قبل جنوری 2024 میں ایودھیا میں ساٹھ لاکھ شردھالو پہنچے تھے۔ جبکہ مندر کے افتتاح کے بعد کے مہینے میں 16 کروڑ چار لاکھ شردھالو پہنچے۔ لیکن اس کے بعد یہ تعداد پچاس کروڑ تک پہنچ گئی۔ یومیہ کئی لاکھ عقیدت مند پہنچنے لگے تھے۔ ایودھیا کے جن دکانداروں کی یومیہ چار سو پانچ سو کی بکری ہوتی تھی وہ مندر کھلنے کے بعد ڈھائی تین ہزار تک پہنچ گئی۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) لکھنو کے ایک مطالعے کے مطابق جنوری 2024 میں مندر کے افتتاح کے بعد پہلے چھ ماہ میں گیارہ کروڑ عقیدت مند پہنچے۔ مطالعے کے مطابق اس دوران مقامی دکانداروں کی آمدنی میں پانچ گنا کا اضافہ ہوا۔ پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کی ایک رپورٹ کے مطابق 2020 میں ایودھیا میں 60 لاکھ شردھالو پہنچے تھے جبکہ 2024 میں 16 کروڑ پہنچے۔

اس واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد ضمنی طور پر ایک اور چیز دیکھی جا رہی ہے اور وہ ہے صحافیوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ۔ بیشتر نیوز چینلوں کے رپورٹر اور یو ٹیوبرز ایودھیا کا دورہ کر کے اس معاملے کی رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ چندہ چوری کی خبر پر لوگوں میں شدید غصہ اور ناراضگی بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کیسے رام بھکت ہیں کہ بھگوان کا پیسہ ہی چوری کر رہے ہیں۔ اس بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ مقامی باشندوں کو جب چوری کا علم ہوا تو وہ سکتے میں آگئے۔ ان کو یہ گمان ہی نہیں تھا کہ رام مندر میں ایسا کچھ ہو رہا ہے۔ حالانکہ ایسی رپورٹیں بھی ہیں کہ مندر انتظام میں شامل بہت سے لوگوں کو اس چوری کا علم تھا اور اس سے رام مندر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے کو آگاہ بھی کر دیا گیا تھا۔ لیکن انھوں نے اس معاملے کو قالین کے نیچے دبا دیا۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ معاملہ اب دب گیا اور اب اس کا علم کسی کو نہیں ہو پائے گا۔ لیکن بھانڈا تو پھوٹ ہی جاتا ہے۔

اس صورت حال نے جہاں مقامی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے وہیں بی جے پی، آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد کی ساکھ کو بھی دھکہ لگا ہے۔ حالانکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی جانب سے ایک عرصے تک خاموشی اختیار کی گئی تھی لیکن پھر آر ایس ایس کی جانب سے بیان آیا اور اس نے کہا کہ اس واقعے سے رام بھکتوں کی عقیدت کو ٹھیس پہنچی ہے لہٰذا ٹرسٹ کو چاہیے کہ وہ خامیوں کو دور کرے۔ اس نے ہندو سماج سے اپیل کی کہ وہ صبر سے کام لے اور ہندو مخالف اور ملک مخالف قوتوں کو اس معاملے کا استحصال کرنے کا موقع نہ دے۔ یہ بیان آر ایس ایس کے ترجمان دتا تریا ہوسبیلے کی طرف سے آیا ہے۔ اس بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جیسے وہ اپوزیشن کے بیانات کو ہندو اور ملک مخالف سمجھ رہے ہیں۔

اس معاملے میں سب سے زیادہ نشانہ چمپت رائے بن رہے ہیں۔ بجرنگ دل کے نیتا اور سابق ایم پی اور رام مندر تحریک کا ایک بڑا چہرہ ونے کٹیار نے کچھ بیانات دیے لیکن انھوں نے بھی کچھ صاف صاف نہیں کہا۔ انھوں نے پہلے کہا کہ چمپت رائے اور گوپال راو جیل جا سکتے ہیں لیکن پھر اپنے اس بیان سے مکر گئے۔ دراصل یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اور اس سے پورا سنگھ پریوار بے نقاب ہو گیا ہے اس لیے ان لوگوں سے بیان بن نہیں پڑ رہا ہے۔ حالانکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگوں نے اس سلسلے میں ابھی کوئی بیان نہیں دیا ہے کہ اس معاملے سے بی جے پی اور آر ایس ایس کو کتنا نقصان پہنچا ہے لیکن آزاد تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پورا سنگھ پریوار اس بات پر تشویش زدہ ہے کہ اس معاملے کا بی جے پی کے سیاسی امکانات پر کوئی اثر نہ پڑے۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ چوری کے اس واقعے سے وشو ہندو پریشد کی رام مندر تحریک کی اخلاقیات کو بھی دھچکہ لگا ہے اور اب ہندو عوام کے ایک بڑے طبقے میں بالخصوص وشو ہندو پریشد کے تئیں بدگمانی بڑھ گئی ہے۔ چونکہ چمپت رائے پریشد سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور وہ رام مندر تحریک میں پیش پیش رہے ہیں اس لیے پریشد کی امیج کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ بی جے پی کے کچھ سیاست دانوں نے اس معاملے کو دوسرا رنگ دینے کی کوشش کی تھی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ مثال کے طور پر یہ بیان دیا گیا کہ جب ہم بابری مسجد کے چندے کے بارے میں کچھ نہیں پوچھ رہے ہیں تو رام مندر چندے کے بارے میں کیوں پوچھا جا رہا ہے۔ حالانکہ چندہ چوری کے بارے میں مسلمان کوئی سوال نہیں کر رہے ہیں سوال تو دراصل ہندو عقیدت مند کر رہے ہیں۔ لہٰذا اس بیان کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اسی طرح چندہ چوروں کو غزنوی اور اورنگ زیب کا نام دیا گیا۔ گویا یہ مسلم نام استعمال کرکے مسلمانوں کے خلاف ایک ماحول بنانے کی کوشش کی گئی لیکن یہ کوشش بھی ناکام رہی۔

بہرحال اس معاملے میں آٹھ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے اور انھیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ لیکن چمپت رائے اور بعض دیگر بااثر لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ چمپت رائے نے اپنے عہدے سے استعفے کی پیشکش کی ہے جس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ اسی درمیان انھوں نے دہلی آکر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت سے ملاقات کی اور موہن بھاگوت نے شال اوڑھا کر ان کا استقبال کیا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ چمپت رائے سب سے بااثر آدمی ہیں لہٰذا وہ بچ جائیں گے۔ موہن بھاگوت سے ان کی ملاقات سے یہ مطلب نکالا جا رہا ہے کہ اب ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ بہرحال یہ معاملہ رام مندر تحریک کا سب سے بھیانک معاملہ ہے اور اس نے ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو بری طرح ٹھیس پہنچائی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اگلے سال ہونے والے یوپی اسمبلی انتخابات پر اس معاملے کا کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں۔


]

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *