دہلی کے منڈکا واقع فیکٹری میں دردناک حادثہ، سپٹک ٹینک میں زہریلی گیس سے دم گھٹنے کے سبب 3 مزدور جاں بحق

دہلی کے منڈکا واقع فیکٹری میں دردناک حادثہ، سپٹک ٹینک میں زہریلی گیس سے دم گھٹنے کے سبب 3 مزدور جاں بحق

سپٹک ٹینک زہریلی گیس کے سبب مزدوروں کی حالت خراب ہونے لگی اور افرا تفری مچ گئی۔ فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے سیپٹک ٹینک سے تینوں مزدوروں کو باہر نکالا، لیکن اس وقت تک ان کی موت ہو چکی تھی۔



<div class="پیراگراف">
<p>ویڈیو گریب</p>
</div>
<p>” class=”qt-image”/><img decoding=
صارف
google_preferred_badge

مغربی دہلی کے منڈکا انڈسٹریل علاقہ میں موجود ایک فیکٹری میں جمعہ کی دوپہر سیپٹک ٹینک کی صفائی کے دوران زہریلی گیس کی زد میں آکر 3 مزدوروں کی موت ہو گئی۔ دہلی فائر سروس (ڈی ایف ایس) کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور بچاؤ مہم چلائی، لیکن تینوں مزدوروں کو مردہ حالت میں ہی باہر نکالا جا سکا۔

دہلی فائر سروس کے مطابق دوپہر تقریباً 12.03 بجے جولا پوری فائر اسٹیشن کو اطلاع ملی کہ منڈکا انڈسٹریل ایریا کی فیکٹری نمبر 8/93 کے سیپٹک ٹینک میں کچھ لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی دو واٹر ٹینڈر موقع پر روانہ کیے گئے۔ راستے میں شدید ٹریفک جام کی اطلاع ملنے پر ٹکری فائر اسٹیشن سے ایک اضافی واٹر ٹینڈر بھی بھیجا گیا۔ بچاؤ کارروائی کے دوران ایس ڈی ایم کی ضرورت پیش آنے پر ڈی ڈی ایم اے کے ذریعہ ایس ڈی ایم منڈکا کو بھی موقع پر طلب کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ کے بعد افرا تفری مچ گئی اور فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے سیپٹک ٹینک سے تینوں مزدوروں کو باہر نکالا، لیکن اس وقت تک ان کی موت ہو چکی تھی۔ تینوں سلطان پوری کے اندرا جھیل علاقہ کے رہائشی تھے۔ مہلوکین کے نام ارون (38 سال)، سندیپ (32 سال) اور چاند (42 سال) ہیں۔

ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا کہ ایک مزدور سیپٹک ٹینک میں اترا تھا۔ زہریلی گیس کی زد میں آنے کے بعد وہ اندر ہی پھنس گیا۔ اسے بچانے کے لیے دیگر 2 مزدور بھی یکے بعد دیگرے ٹینک میں اترے، لیکن وہ بھی زہریلی گیس کی زد میں آ گئے۔ منڈکا تھانہ کی پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس حادثہ کی وجوہات کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ فیکٹری میں حفاظتی معیارات پر عمل کیا جا رہا تھا یا نہیں۔


]

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *