جمعیۃ علماء ہند کے دینی تعلیمی بورڈ کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس، مکاتب کے فروغ اور ارتداد کے خطرات پر زور

جمعیۃ علماء ہند کے دینی تعلیمی بورڈ کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس، مکاتب کے فروغ اور ارتداد کے خطرات پر زور

جمعیۃ کے دینی تعلیمی بورڈ کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں ملک بھر میں مکاتب کے نظام کو مضبوط بنانے، معلمین کی تربیت، نصاب کی توسیع اور ارتداد کے خطرات کے تناظر میں دینی تعلیم کے فروغ پر زور دیا گیا



<div class="پیراگراف">
<p>پریس ریلیز کی تصویر</p>
</div>
<p>” class=”qt-image”/><img decoding=
صارف
google_preferred_badge

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے دینی تعلیمی بورڈ کی مجلسِ عاملہ کا اہم اجلاس مدنی ہال، نئی دہلی میں صدر دینی تعلیمی بورڈ اور مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جمعیۃ علماء ہند کے پریس بیان کے مطابق، اجلاس کی کارروائی ناظمِ عمومی دینی تعلیمی بورڈ مولانا مفتی سلمان منصور پوری کی نگرانی میں انجام پائی، جبکہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید محمود اسعد مدنی اور مفتی سید عفان منصور پوری کی سرپرستی بھی اجلاس کو حاصل رہی۔ اس موقع پر ملک بھر سے صوبائی ذمہ داران اور اراکینِ عاملہ نے شرکت کرتے ہوئے دینی تعلیم سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غور و خوض کیا۔

اجلاس کے آغاز میں تلاوتِ کلامِ پاک کے بعد سابقہ کارگزاری پیش کی گئی، جس پر شرکا نے اپنی تجاویز اور مشورے دیے۔ بعد ازاں مختلف صوبوں کی جانب سے پیش کیے گئے تقاضوں اور مسائل کا جائزہ لیا گیا اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں دینی تعلیمی بورڈ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور ملک بھر میں اس کے دائرۂ کار کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ صوبائی ذمہ داران نے اپنے علاقوں میں درپیش مشکلات اور معاونین کی ضرورت سے بھی آگاہ کیا، جس پر مسائل کے حل کے لیے ایک سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔

اجلاس میں معاونین کے تقرر، معلمین اور معلمات کی تربیت، نئے افراد کے انتخاب، مختلف زبانوں میں نصاب کے ترجمے، جمعیۃ بک ڈپو کی کتب کی فراہمی، اردو زبان کی تعلیم کے لیے اسلامی تعلیمات کے انتخاب اور اشتراکی کتب خانوں کے قیام جیسے موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال ہوا۔ اس کے علاوہ اسکول ٹیوشن کے نظام، معلمات کی تدریب اور بچیوں کے شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے کھیلوں میں شرکت سے متعلق بعض تجاویز پیش کی گئیں، جن میں سے چند کو منظوری دی گئی، جبکہ بعض تجاویز مزید غور و فکر کے لیے مؤخر کر دی گئیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید محمود اسعد مدنی نے ملک میں ارتداد کے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں مکاتب کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں دینی تعلیم کے فروغ کے لیے غیر معمولی محنت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ملت اسلامیہ مختلف چیلنجوں سے دوچار ہے اور اگر اس مرحلے پر غفلت برتی گئی تو اس کے اثرات آئندہ نسلوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں کے ایمان کی حفاظت کی کوشش دراصل اپنے ایمان کے تحفظ کا ذریعہ بھی بنتی ہے، اس لیے دینی تعلیم کے میدان میں پوری سنجیدگی اور استقامت کے ساتھ کام جاری رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

صدر اجلاس مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ مختلف صوبوں کے ذمہ داران کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا مقصد باہمی تعاون کو فروغ دینا اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا ہے تاکہ دینی تعلیمی بورڈ کا کام مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکے۔ اجلاس اہم فیصلوں، متعدد تجاویز کی منظوری اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر اتفاق کے بعد دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


]

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *