گرفتار ملزمین میں اے ایس آئی دھیرج کمار سنگھ، اے ایس آئی راج کمار، ہوم گارڈ اہلکار راجو سنگھ، امیش یادو، دھرمیندر پاسوان اور نجی ڈرائیور وکاس سنگھ شامل ہیں۔
بہار کے ضلع بھوجپور میں بیہیا تھانہ علاقہ واقع گنج گاؤں کے رہائشی دلت نوجوان سنوج کمار کی پُراسرار موت اب بھی ایک معمہ ہے۔ سنوج کمار کے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے کے معاملہ میں پٹنہ ہائی کورٹ کی سختی کے بعد پولیس نے بڑی کارروائی کی ہے۔ جگدیش پور ایکسائز تھانہ میں تعینات 2 اے ایس آئی، 3 ہوم گارڈ اہلکاروں اور ایک نجی ڈرائیور کو گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ بھوجپور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راج نے اس کی تصدیق کی ہے۔
گرفتار ملزمین میں اے ایس آئی دھیرج کمار سنگھ، اے ایس آئی راج کمار، ہوم گارڈ اہلکار راجو سنگھ، امیش یادو، دھرمیندر پاسوان اور نجی ڈرائیور وکاس سنگھ شامل ہیں۔ ان سب کے خلاف سنوج کمار کو تحویل میں لینے کے بعد ان کے لاپتہ ہونے کے معاملے میں ملوث ہونے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ایک اور مشتبہ پولیس اہلکار سے بھی پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔
یہ معاملہ 13 اگست 2025 کا ہے۔ اہل خانہ کے مطابق اس روز شام سنوج کمار نے اپنے والد گوری شنکر رام کو فون کر کے بتایا تھا کہ دھرہرا مہادلت ٹولہ کے قریب ایکسائز محکمہ کی ٹیم نے انہیں پکڑ لیا ہے۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ان کا موبائل فون بند ہو گیا اور وہ پھر کبھی گھر واپس نہیں آئے۔ کافی تلاش کے باوجود ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ اگلے دن والد نے بیہیا تھانہ میں گمشدگی کی ایف آئی آر درج کراتے ہوئے ایکسائز محکمہ پر اپنے بیٹے کو غائب کرنے کا الزام لگایا۔ تحقیقات کے دوران سنوج کی موٹر سائیکل جائے وقوع کے قریب لاوارث حالت میں ملی تھی۔ بعد میں مقامی پولیس کی تحقیقات میں سنوج کا ایک موبائل فون ایکسائز محکمہ کے اہلکاروں کے قبضہ سے برآمد ہوا، جبکہ دوسرا موبائل اب تک نہیں ملا ہے۔ اسی حقیقت نے اس پورے معاملے کو مزید مشتبہ بنا دیا۔
مقامی سطح پر کوئی کارروائی نہ ہونے کے بعد اہل خانہ نے پٹنہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ حالیہ سماعت میں ہائی کورٹ نے بھوجپور کے ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کو ذاتی طور پر طلب کر کے پیش رفت کی رپورٹ طلب کی تھی۔ عدالت کی ہدایت کے بعد پولیس نے تحقیقات تیز کرتے ہوئے مشتبہ پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی اور کافی شواہد ملنے پر سبھی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا۔ عدالت کے حکم پر تمام ملزمین کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔
اس معاملہ میں ایکسائز محکمہ کا مؤقف بھی سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ سنوج حراست سے فرار ہو گئے تھے، لیکن اگر ایسا تھا تو ان کے خلاف حراست سے فرار ہونے کی ایف آئی آر کیوں درج نہیں کرائی گئی؟ اسی طرح اگر وہ فرار ہو گئے تھے تو ان کا موبائل فون ایکسائز محکمہ کے پاس کیسے ملا؟ ان سوالوں کا اب تک کوئی واضح جواب سامنے نہیں آ سکا ہے۔
بھوجپور پولیس اب تکنیکی اور سائنسی شواہد کی بنیاد پر سنوج کمار کی تلاش میں مصروف ہے۔ موبائل لوکیشن، کال ڈیٹیل اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی جانچ کی جا رہی ہے۔ ادھر ہائی کورٹ کی ہدایت پر سنوج کے اہل خانہ کو سیکورٹی فراہم کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں جس کسی کے بھی ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئیں گے، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
