رام مندر چندہ تنازعہ: ٹنو یادو چوری ہی نہیں وصولی بھی کرتا تھا، ’وی آئی پی دَرشن‘ کے نام پر چلا رہا تھا نیٹورک

رام مندر چندہ تنازعہ: ٹنو یادو چوری ہی نہیں وصولی بھی کرتا تھا، ’وی آئی پی دَرشن‘ کے نام پر چلا رہا تھا نیٹورک

بتایا گیا ہے کہ رام مندر میں پران پرتشتھا کے بعد عقیدت مندوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے کے ساتھ ہی وی آئی پی درشن کے نام پر غیر قانونی وصولی کا کھیل بھی بڑے پیمانے پر شروع ہو گیا تھا۔

تصویر بذریعہ شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹوئٹر ہینڈلتصویر بذریعہ شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹوئٹر ہینڈل

i

صارف
google_preferred_badge

رام مندر میں نذرانہ اور چندہ کی مبینہ چوری کے معاملے کی تحقیقات کے دوران خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کو مزید ایک اہم سراغ ملا ہے۔ تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ گرفتار ملزم رام شنکر یادو عرف ٹنّو نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر وی آئی پی درشن کے نام پر منظم وصولی کا ایک نیٹورک قائم کر رکھا تھا۔ الزام ہے کہ یہ گروہ عقیدت مندوں سے لاکھوں روپے وصول کرتا تھا اور روزانہ جمع ہونے والی رقم آپس میں تقسیم کر لیتا تھا۔

کچھ میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ رام مندر میں پران پرتشتھا کے بعد عقیدت مندوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے کے ساتھ ہی وی آئی پی درشن کے نام پر غیر قانونی وصولی کا یہ کھیل بھی بڑے پیمانے پر شروع ہو گیا تھا۔ ایس آئی ٹی کی تحقیقات میں اشارے ملے ہیں کہ اس نیٹورک میں صرف گرفتار ملزمین ہی نہیں بلکہ مندر کے بعض دیگر ملازمین اور بیرونی افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسیاں اب ان تمام افراد کے کردار کی جانچ کر رہی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ رام مندر میں درشن کے لیے مختلف انتظامات موجود ہیں۔ عام عقیدت مندوں کو طویل قطاروں میں کھڑے ہو کر درشن کرنا پڑتا ہے، جبکہ پروٹوکول کے تحت آنے والے معزز مہمانوں کو وی آئی پی پاس کے ذریعہ کم وقت میں درشن کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ پاس شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کی جانب سے مکمل طور پر مفت جاری کیے جاتے ہیں۔ ایس آئی ٹی کے مطابق بعض افراد نے مبینہ طور پر اسی نظام کا غلط استعمال کیا۔ عقیدت مندوں کو جلد اور آسان درشن کرانے کا یقین دلا کر ان سے بھاری رقم وصول کی جاتی تھی۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وصول کی گئی رقم باقاعدگی سے گروہ کے اراکین کے درمیان تقسیم کی جاتی تھی۔ تحقیقاتی ایجنسیاں اب اس مبینہ ریکٹ سے متعلق مالی لین دین، موبائل کال کی تفصیلات، بینک کھاتوں اور دیگر دستاویزات کی جانچ کر رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں اس معاملے میں بعض مزید ملازمین اور بیرونی افراد کے خلاف بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔

رام مندر میں نذرانہ و عطیات کی مبینہ چوری کے معاملے میں ٹنو یادو پر اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا الزام ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ یہاں آڈٹ اور نگرانی کی ذمہ داری کس کے پاس تھی؟ اس معاملے میں ایس آئی ٹی نے چمپت رائے سے بھی کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی۔ انہوں نے اپنی جانب سے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ اس معاملے پر وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے بین الاقوامی صدر آلوک کمار نے کہا کہ ایودھیا کے رام مندر میں نذرانہ کی چوری کے لیے وشو ہندو پریشد ذمہ دار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم اپنے نائب صدر چمپت رائے کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے پہلے اس معاملے کی تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مندر میں ہونے والی یہ لوٹ انتہائی افسوسناک ہے۔ اس سے دنیا بھر کے ہندوؤں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اس کے لیے کوئی بہانہ بنانے یا دفاع کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ پولیس اور ایس آئی ٹی ہر پہلو اور ہر اس شخص کی انتہائی باریک بینی سے تحقیقات کریں جن پر کوئی بھی الزام عائد کیا گیا ہو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔


]

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *