سمندری ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد گزشتہ 24 گھنٹوں میں تقریباً دوگنی ہو گئی ہے، جو فروری کے آخر کے بعد سب سے بلند سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اسی کے ساتھ امریکی تیل کی قیمتیں بھی جنگ شروع ہونے کے بعد کی سب سے نچلی سطح پر آگئی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلا رہتا ہے تو اس سے توانائی کی عالمی منڈی اور سمندری تجارت کو خاطر خواہ راحت مل سکتی ہے۔ فی الحال دنیا کی نظریں سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات اور خلیجی خطے میں سلامتی کی صورتحال پر مرکوز ہیں۔
تیل، گیس اور کھاد لے کر 30 ہندوستانی جہاز آبنائے ہرمز سے روانہ، 20 سے زیادہ روانگی کے انتظار میں