رام مندر نذرانہ چوری معاملہ: کے سی وینوگوپال نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر اعلیٰ سطحی تحقیقات کا کیا مطالبہ

رام مندر نذرانہ چوری معاملہ: کے سی وینوگوپال نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر اعلیٰ سطحی تحقیقات کا کیا مطالبہ

کے سی وینوگوپال نے خط میں لکھا کہ ’’ابتدائی تحقیقات سے ایک منظم گروہ کی مبینہ ملی بھگت اور ہر سطح پر ادارہ جاتی ناکامی کا پتہ چلتا ہے۔‘‘



<div class="پیراگراف">
<p>کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال / IANS</p>
</div>
<p>” class=”qt-image”/><img decoding=
صارف
google_preferred_badge

کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے جمعرات (2 جولائی) کو وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر ایک بڑا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے کی رقم میں غبن اور بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔ وینوگوپال نے وزیر اعظم سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس معاملے میں سپریم کورٹ کی سخت نگرانی میں ایک اعلیٰ سطحی آزاد ایجنسی کے ذریعے غیر جانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔‘‘

’پی ٹی آئی‘ کی رپورٹ کے مطابق وینوگوپال نے کہا کہ یہ پورا معاملہ کروڑوں ہندوستانی شہریوں کے مذہبی عقیدے کے ساتھ دھوکہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’ابتدائی تحقیقات سے ایک منظم گروہ کی مبینہ ملی بھگت اور ہر سطح پر ادارہ جاتی ناکامی کا پتہ چلتا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ادارہ جاتی سرپرستی کے بغیر اس نوعیت کی مبینہ لوٹ مار ممکن نہیں تھی۔‘‘

کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ نقدی گننے والے ملازمین نے نقد رقم اور قیمتی زیورات چرانے کے لیے مقررہ نگرانی کے ضوابط کو نظر انداز کیا۔ مزید یہ کہ اس مبینہ مجرمانہ سازش کے شواہد مٹانے کے لیے کئی ماہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی تباہ کر دی گئی۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ غبن اور چوری سے متعلق شکایات کو یا تو نظر انداز کر دیا گیا یا پھر دبا دیا گیا۔

وینوگوپال نے خط کے ذریعہ وزیر اعظم مودی سے کہا کہ ’’ٹرسٹ کے سابق چیف اکاؤنٹس آفیسر کی جانب سے مبینہ بے ضابطگیوں کے بارے میں دی گئی وارننگ اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔‘‘ کانگریس کے جنرل سکریٹری نے الزام عائد کیا کہ اتر پردیش حکومت کی تشکیل کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) اور اس کے بعد درج کی گئی ایف آئی آر محض ایک دکھاوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک صرف نچلے درجے کے ملازمین کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جبکہ مبینہ طور پر اصل قصورواروں کو بچانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔

کے سی وینوگوپال نے خط میں لکھا ’’شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ ایک عوامی ٹرسٹ ہے، جسے مرکزی حکومت نے 2020 میں قائم کیا تھا۔ اس لیے اس سے شفافیت اور جوابدہی کے اعلیٰ ترین معیارات پر عمل کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’ایسے الزامات ہندو عقیدے اور بھگوان رام کے نام پر قائم کیے گئے اس ٹرسٹ کی تقدس کے ساتھ سنگین خیانت کے مترادف ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


]

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *