وینزویلا میں دیوریا کے مرچنٹ نیوی افسر کی مشتبہ موت معاملہ میں اہم انکشاف، جسم سے اہم اعضا غائب

وینزویلا میں دیوریا کے مرچنٹ نیوی افسر کی مشتبہ موت معاملہ میں اہم انکشاف، جسم سے اہم اعضا غائب

مجسٹریٹ کی خصوصی ہدایت پر دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا جس میں جسمانی اعضاء غائب ہونے کا انکشاف ہوا۔ بعد ازاں اہل خانہ نے حکومت اور متعلقہ شپنگ کمپنی کو میل بھیج کر اعلی سطحی جانچ کا مطالبہ کیا۔

موت، علامتی تصویرموت، علامتی تصویر

i

صارف
google_preferred_badge

اتر پردیش کے دیوریا سے تعلق رکھنے والے مرچنٹ نیوی میں ملازم 33 سالہ راکیش چوہان کی وینزویلا میں ہوئی مشتبہ موت معاملہ میں کچھ اہم انکشافات ہوئے ہیں۔ موت کے تقریباً ایک ماہ بعد راکیش کی لاش آبائی وطن پہنچی، جہاں ایک ایسی سچائی سامنے آئی جس نے اہل خانہ کو حیران کر دیا۔ گھر والوں کا الزام ہے کہ کمپنی نے راکیش کا قتل کیا ہے اور جسم کے اہم اعضاء کی اسمگلنگ کی گئی ہے۔

دیوریا ضلع لگڑا بازار ٹولا (بھگوان پور) کے رہنے والے راکیش چوہان نومبر 2025 میں مرچنٹ نیوی کے ذریعہ وینزویلا میں جہاز پر نوکری کرنے گئے تھے۔ راکیش اپنے گھر میں واحد برسرروزگار فرد تھے۔ راکیش کی شادی 2023 میں ہوئی تھی اور ان کا 6 ماہ کا ایک بچہ بھی ہے۔ اہل خانہ کے مطابق کمپنی کے ممبئی دفتر سے اچانک فون آیا کہ راکیش جہاز پر گر گئے ہیں اور ان کا علاج چل رہا ہے۔ اس کے بعد دوسرے دن ہی صبح کے وقت کہا گیا کہ بچنے کی امید محض 5 فیصد رہ گئی ہے اور شام ہوتے ہوتے موت کی خبر دے دی گئی۔ کمپنی نے موت کا سبب چکر کھا کر گرنا بتایا ہے۔

جب راکیش کے والد اور اہلیہ ممبئی دفتر گئیں تو یقین دہانی کرائی گئی کہ جسد خاکی ایک ہفتے میں ان کے حوالے کر دیا جائے گا۔ لیکن لاش ملنے میں ایک ماہ کا وقت لگ گیا۔ 4 جون کی شام جب ان کی لاش دیوریا پہنچی تو مقامی ڈاکٹروں کی ٹیم نے پولیس کی موجودگی میں لاش کو دیکھ کر پوسٹ مارٹم کرنے سے انکار کر دیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ باڈی کا پوسٹ مارٹم پہلے ہی ہو چکا ہے اور وہ دوبارہ ہاتھ نہیں لگا سکتے ہیں۔

اس کے بعد ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) کی خصوصی ہدایت پر راکیش کی لاش کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد ڈاکٹروں کی رپورٹ میں سامنے آیا کہ راکیش کے جسم سے کئی اہم اعضاء غائب ہیں۔ یہ خوفناک حقیقت سامنے آنے کے بعد راکیش کی اہلیہ رنجنا چوہان نے سفارت خانہ، مرکزی وزیر برائے آبی نقل و حمل اور متعلقہ شپنگ کمپنی کو ای میل بھیج کر اعلی سطحی جانچ اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

راکیش کے والد رام دیو چوہان نے بتایا کہ ہمیں کمپنی نے مسلسل دھوکے میں رکھا۔ اس نے موت کی صحیح وجہ نہیں بتائی۔ ڈی ایم صاحب کی ہدایت پر دوبارہ پوسٹ مارٹم ہوا تو سچائی سامنے آئی۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس دھوکے باز کمپنی پر سخت کارروائی کی جائے اور پورے معاملے کی غیر جانب دارانہ جانچ ہو۔ اس معاملہ میں گرام پردھان دھنشیام سنگھ نے کہا کہ ’’میں پہلے دن سے متاثرہ اہل خانہ کے ساتھ کھڑا ہوں۔ میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس معاملے کی اعلی سطحی جانچ کرائی جائے تاکہ متاثرہ اہل خانہ کو انصاف اور مناسب معاوضہ مل سکے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


]

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *