آئی ٹی آر-1 اور آئی ٹی آر-2 کے تحت انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے والے انفرادی ٹیکس دہندگان کے پاس بغیر جرمانے کے اپنا ریٹرن جمع کرانے کے لیے 31 جولائی 2026 تک کا وقت ہے۔
یکم جولائی 2026، یعنی آج سے پورے ملک میں کئی اہم مالیاتی اور انتظامی تبدیلیاں نافذ ہو گئی ہیں۔ ان تبدیلیوں کا اثر ایمپلائی پروویڈنٹ فنڈ سبسکرائبرز، آدھار ہولڈرز، پاسپورٹ درخواست دہندگان اور انکم ٹیکس جمع کرانے والوں پر پڑے گا۔ متعلقہ سرکاری حکام کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن اور اعلانات کے ذریعے ان تبدیلیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ آئیے ان تبدیلیوں کے بارے میں جانتے ہیں…
ای پی ایف او کی آن لائن سروس دوبارہ شروع
ایمپلائی پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) نے 26 جون سے 30 جون کے درمیان طے شدہ سسٹم مائیگریشن اور ڈاٹابیس کنسولیڈیشن کا کام مکمل کرنے کے بعد اپنی آن لائن سروس دوبارہ شروع کر دی ہے۔ 5 روزہ مینٹیننس مدت کے دوران ای پی ایف او ممبر پورٹل، ایمپلائر پورٹل اور کئی ڈیجیٹل خدمات دستیاب نہیں تھیں۔ آرگنائزیشن نے کہا کہ یہ اپگریڈ پروسیسنگ کی صلاحیت، سیکورٹی اور سروس کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔ سروس یکم جولائی کو رات 12 بجے سے دوبارہ شروع ہو گئی۔
آدھار میں ای میل اپڈیٹ 6 ماہ تک مفت
’یونیک آئیڈینٹیفکیشن اتھارٹی آف انڈیا‘ (یو آئی ڈے اے آئی) نے آدھار موبائل ایپلی کیشن کے ذریعہ آدھار نمبر سے منسلک ای میل ایڈریس کو اپڈیٹ کرنے کی فیس معاف کر دی ہے۔ 19 جون کو جاری ایک سرکاری میمورنڈم کے ذریعے اعلان کی گئی یہ رعایت یکم جولائی سے 31 دسمبر 2026 تک نافذ رہے گی۔ اس سے پہلے صارفین کو اس سروس کے لیے فیس ادا کرنی پڑتی تھی۔
پاسپورٹ درخواست کی فیس میں تبدیلی
وزارت خارجہ نے یکم جولائی سے پاسپورٹ درخواست کی فیس میں تبدیلی نافذ کر دی ہے، جو 2012 کے بعد پاسپورٹ فیس میں پہلا بڑا اضافہ ہے۔ نئے ڈھانچے کے تحت 36 صفحات والی عام پاسپورٹ بک لیٹ کی فیس 1,500 روپے سے بڑھا کر 2,500 روپے کر دی گئی ہے، جبکہ اسی بک لیٹ کے لیے تتکال فیس بڑھ کر 5,000 روپے ہو گئی ہے۔ 60 صفحات والے پاسپورٹ، نابالغوں کے پاسپورٹ اور پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ کی فیس بھی بڑھا دی گئی ہے۔ نئی شرحیں ہندوستان اور بیرون ملک دونوں مقامات پر پاسپورٹ خدمات پر نافذ ہوں گی۔
آئی ٹی آر داخل کرنے کی آخری تاریخ
آئی ٹی آر-1 اور آئی ٹی آر-2 کے تحت انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے والے انفرادی ٹیکس دہندگان کے پاس بغیر جرمانے کے اپنا ریٹرن جمع کرانے کے لیے 31 جولائی 2026 تک کا وقت ہے۔ آئی ٹی آر-1 عموماً ان تنخواہ دار افراد کے لیے ہوتا ہے جن کی اضافی آمدنی کے ذرائع محدود ہوں، جیسے بینک سے حاصل ہونے والا سود، جبکہ آئی ٹی آر-2 ان ٹیکس دہندگان کے لیے ہے جنہیں کیپیٹل گین (سرمایہ جاتی منافع) حاصل ہوتا ہے، جن کے پاس ایک سے زیادہ مکانات ہوں یا جن کی سالانہ آمدنی 50 لاکھ روپے سے زیادہ ہو۔ ٹیکس ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ آخری وقت کی مشکلات سے بچنے کے لیے مقررہ تاریخ سے کافی پہلے ریٹرن داخل کر دیا جائے۔
ایل پی جی اور پی این جی کے ضابطوں میں تبدیلی
جن لوگوں کے پاس ایل پی جی اور پی این جی دونوں کنکشن ہیں، ان کے لیے مکمل طور پر پی این جی پر منتقل ہونے کی آخری تاریخ 30 جون مقرر کی گئی تھی۔ یہ ضابطہ جولائی سے نافذ ہو سکتا ہے۔ تاہم ایل پی جی سپلائی بند کرنے کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی شخص ایسے مقام پر منتقل ہوتا ہے جہاں پی این جی سروس دستیاب نہیں ہے، تو اسے پہلے سرینڈر کیا گیا ایل پی جی کنکشن دوبارہ بحال کرانے کی اجازت دی جائے گی۔
مالیاتی مصنوعات کی غلط فروخت
’ریزرو بینک آف انڈیا‘ نے مالیاتی مصنوعات کی غلط فروخت روکنے کے لیے ایک نیا فریم ورک متعارف کرایا ہے۔ غلط فروخت سے مراد یہ ہے کہ بینک گمراہ کن معلومات یا غیر مناسب فروخت کے طریقوں کے ذریعے صارفین کو انشورنس، سرمایہ کاری یا قرض جیسی مصنوعات فروخت کریں۔ یکم جولائی 2026 سے نافذ ہونے والے نئے ضابطوں کے تحت ایسے صارفین، جنہیں اس طرح کی سرگرمیوں سے مالی نقصان پہنچے گا، مکمل رقم کی واپسی یا معاوضے کے حقدار ہوں گے۔ اس قدم کا مقصد فروخت کے عمل میں جواب دہی بڑھانا ہے، خاص طور پر ان بنڈل مصنوعات کے معاملے میں جو اکثر قرض یا بینک اکاؤنٹ کھولنے کے وقت فروخت کی جاتی ہیں، جیسے انشورنس ایڈ آن یا سرمایہ کاری کی اسکیمیں، جن کے بارے میں واضح معلومات فراہم نہیں کی جاتی تھیں۔
کریڈٹ کارڈ کے ضابطوں میں تبدیلی
ایس بی آئی کارڈ نے منتخب فون پے ایس بی آئی کریڈٹ کارڈز کے لیے ریوارڈ پوائنٹس کے ڈھانچے میں تبدیلی کی ہے۔ یہ تبدیلیاں خاص طور پر فون پے ایس بی آئی کریڈٹ کارڈ کے پرپل اور سلیکٹ بیک ویریئنٹس پر نافذ ہوں گی۔ ان میں ریوارڈ پوائنٹس حاصل کرنے کی نئی حدیں مقرر کی گئی ہیں اور ان لین دین کی فہرست بھی بڑھا دی گئی ہے جن پر اب ریوارڈ پوائنٹس نہیں ملیں گے۔
دوسری جانب ایچ ڈی ایف سی بینک نے بعض مخصوص کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کے لیے ایئرپورٹ لاؤنج رسائی کی سہولت میں تبدیلی کی ہے۔ یکم جولائی 2026 سے کارڈ ہولڈرز ہر سہ ماہی میں 3 مفت گھریلو لاؤنج وزٹ کے اہل ہوں گے، لیکن صرف اسی صورت میں جب انہوں نے گزشتہ سہ ماہی کے دوران کم از کم 60 ہزار روپے خرچ کیے ہوں۔ اس طرح لاؤنج رسائی کی سہولت خودکار فائدے کے بجائے اخراجات سے مشروط فائدہ بن جائے گی۔
چھوٹی بچت کی اسکیمیں
وزارت خزانہ کے محکمہ اقتصادی امور نے تصدیق کی ہے کہ جولائی تا ستمبر 2026 سہ ماہی کے لیے چھوٹی بچت کی اسکیموں پر شرح سود اپریل تا جون 2026 سہ ماہی کے برابر ہی رہے گی۔ یہ مسلسل نویں سہ ماہی ہے جس میں شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اس کے مطابق پی پی ایف پر 7.1 فیصد، ایس سی ایس ایس پر 8.2 فیصد، سکنیا اسکیم پر 8.2 فیصد، این ایس سی پر 7.7 فیصد، کے وی پی پر 7.5 فیصد، پی او ٹی ڈی پر 7.5 فیصد اور سیونگ اکاؤنٹ پر 4 فیصد منافع ملتا رہے گا۔
ریلوے جرمانے
ٹرینوں میں خطرناک سامان لے جانے پر جرمانہ 250 روپے سے بڑھا کر 500 روپے کر دیا گیا ہے۔ سنگین خلاف ورزیوں پر 10 ہزار روپے تک جرمانہ اور قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ بغیر درست لائسنس کے ٹرینوں میں سامان فروخت کرنے پر اب 2 ہزار روپے جرمانہ ہوگا، جبکہ خواتین کے ڈبوں میں بغیر اجازت سفر کرنے پر 2,500 روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
‘وی بی جی رام جی’ ایکٹ نافذ
یکم جولائی سے نئی دیہی روزگار گارنٹی اسکیم ’وکست بھارت- گارنٹی فار روزگار اور آجیویکا مشن (گرامین) ایکٹ، 2025‘ نافذ ہو گئی ہے، جس کے تحت قومی اوسط یومیہ مزدوری بڑھ کر 327.4 روپے ہو جائے گی۔ یہ ایکٹ 125 دن تک روزگار کی ضمانت دیتا ہے اور اس میں 300 روپے کی نئی عبوری بنیادی مزدوری مقرر کی گئی ہے۔ جن ریاستوں میں پہلے مزدوری کم تھی، وہاں اس میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کا مقصد دیہی روزگار کو مضبوط بنانا اور اثاثوں کی تعمیر کو فروغ دینا ہے۔
ایل پی جی سلنڈر کی قیمتیں
2026 میں پہلی بار کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمت میں کمی کی گئی ہے۔ یکم جولائی کو کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمت 183.50 روپے کم کر دی گئی، جس کے بعد دہلی میں اس کی قیمت 3 ہزار روپے سے نیچے آ گئی ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ کی رپورٹ کے مطابق آج سے 19 کلوگرام والے کمرشیل سلنڈر کی قیمت میں 183.50 روپے کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد دہلی میں اس کی نئی قیمت 2,930 روپے ہوگی۔ اسی طرح 5 کلوگرام والے ایف ٹی ایل سلنڈر کی قیمت میں بھی 13 روپے کی کمی کی گئی ہے اور دہلی میں اس کی نئی قیمت 808.50 روپے ہوگی۔
پٹرول اور ڈیزل سستا
ہندوستان کی سب سے بڑی پرائیویٹ فیول ریٹیلر کمپنی ’نائرا انرجی‘ نے بدھ کے روز ملک بھر میں اپنے نیٹ ورک پر پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا۔ 2 سال سے زیادہ عرصے میں کسی کمپنی کی جانب سے ریٹیل ایندھن کی قیمتوں میں یہ پہلی کمی ہے، جو مغربی ایشیا میں کشیدگی کم ہونے اور بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے باعث کی گئی ہے۔ مغربی ایشیا میں کشیدگی کم ہونے کے بعد عالمی خام تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور ایک اہم سمندری راستہ دوبارہ کھلنے سے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی بحال ہو گئی ہے، جس سے سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کم ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے قیمتوں میں یہ کمی کی گئی ہے۔
