لوک سبھا سے زیادہ امیر ہیں راجیہ سبھا کے اراکین، اوسط اثاثوں میں 69 کروڑ کا فرق، رپورٹ میں انکشاف

لوک سبھا سے زیادہ امیر ہیں راجیہ سبھا کے اراکین، اوسط اثاثوں میں 69 کروڑ کا فرق، رپورٹ میں انکشاف

اے ڈی آر کی رپورٹ کے مطابق راجیہ سبھا کے موجودہ اراکین کے اعلان کردہ اثاثوں کی اوسط مالیت 115.25 کروڑ روپے ہے، جبکہ 2024 میں منتخب ہوئے لوک سبھا اراکین کے اوسط اثاثے 46.34 کروڑ روپے ہیں۔



<div class="پیراگراف">
<p>راجیہ سبھا کی فائل تصویر، آئی اے این ایس</p>
</div>
<p>” class=”qt-image”/><img decoding=
صارف
google_preferred_badge

ملک کی پارلیمنٹ میں سیاست کے ساتھ ساتھ اثاثوں کے اعداد و شمار بھی نئے ریکارڈ بنا رہے ہیں۔ ایک طرف لوک سبھا میں کروڑ پتی اراکین پارلیمنٹ کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے تو دوسری طرف اوسط اثاثوں کے معاملے میں راجیہ سبھا کے اراکین لوک سبھا کے اراکین سے کافی آگے ہیں۔ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک  ریفارمز (اے ڈی آر) کی رپورٹ کے مطابق راجیہ سبھا کے موجودہ اراکین کے اعلان کردہ اثاثوں کی اوسط مالیت 115.25 کروڑ روپے ہے، جبکہ 2024 میں منتخب ہوئے لوک سبھا اراکین کے اوسط اثاثے 46.34 کروڑ روپے ہیں۔ یعنی دونوں ایوانوں کے اراکین کے درمیان اوسط اثاثوں میں تقریباً 69 کروڑ روپے کا فرق ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ راجیہ سبھا کے اراکین، لوک سبھا کے اراکین سے ڈھائی گنا زیادہ مالدار ہیں۔

واضح رہے کہ لوک سبھا میں کروڑ پتی اراکین پارلیمنٹ کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ 2024 کے انتخاب میں منتخب ہونے والے 543 اراکین میں سے 504 اراکین کروڑ پتی ہیں۔ یعنی ہر 100 میں سے 93 اراکین پارلیمنٹ کے اعلانیہ اثاثے ایک کروڑ روپے سے زیادہ ہیں۔ اگر گزشتہ 4 لوک سبھا انتخابات کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو اراکین پارلیمنٹ کے اثاثوں میں مسلسل اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ 2009 میں صرف 58 فیصد اراکین کروڑ پتی تھے۔ 2014 میں یہ تعداد بڑھ کر 82 فیصد، 2019 میں 88 فیصد اور 2024 میں 93 فیصد ہو گئی۔ یعنی 15 برسوں میں کروڑ پتی اراکین پارلیمنٹ کی فیصد میں 35 پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔

راجیہ سبھا کے اراکین پارلیمنٹ کے اثاثوں کا ڈیٹا:

  • 10 کروڑ روپے سے زیادہ: 97 اراکین (42 فیصد)

  • 5 کروڑ روپے سے 10 کروڑ روپے کے درمیان: 40 اراکین (17 فیصد)

  • ایک کروڑ روپے سے 5 کروڑ روپے کے درمیان: 69 اراکین (30 فیصد)

راجیہ سبھا کے 226 موجودہ اراکین کے کل اثاثے 26047 کروڑ روپے ہیں۔ لوک سبھا میں کروڑ پتی اراکین کی تعداد زیادہ ہے، لیکن اوسط اثاثوں کے معاملے میں راجیہ سبھا کافی آگے ہے۔ راجیہ سبھا کے اراکین کے اوسط اثاثے 115.25 کروڑ روپے ہیں، جبکہ لوک سبھا کے اراکین کے اوسط اثاثے 46.34 کروڑ روپے ہیں۔

راجیہ سبھا میں کئی پارٹیوں کے اراکین کے اوسط اثاثے انتہائی زیادہ ہیں۔ بی آر ایس کے 3 اراکین کے اوسط اثاثے 1841.39 کروڑ روپے ہیں۔ اس کے بعد سماجوادی پارٹی کے اراکین کے اوسط اثاثے 399.71 کروڑ روپے، ٹی ڈی پی کے اراکین کے 251.95 کروڑ روپے، وائی ایس آر سی پی کے اراکین کے 170.88 کروڑ روپے، این سی پی کے اراکین کے 149.35 کروڑ روپے اور کانگریس کے اراکین کے اوسط اثاثے 130.37 کروڑ روپے ہیں۔ بی جے پی کے راجیہ سبھا اراکین کے اوسط اثاثے 76.46 کروڑ روپے ہیں۔ وہیں اے آئی ٹی سی کے 9 راجیہ سبھا اراکین کے اوسط اثاثے 16.72 کروڑ روپے اور ڈی ایم کے کے 8 راجیہ سبھا اراکین کے اوسط اثاثے 11.90 کروڑ روپے ہیں۔

لوک سبھا میں اوسط اثاثوں کے معاملے میں تیلگو دیشم پارٹی سب سے آگے ہے۔ پارٹی کے 16 اراکین کے اوسط اثاثے 442.26 کروڑ روپے ہیں۔ اس کے بعد بی جے پی کے 240 اراکین کے اوسط اثاثے 50.04 کروڑ روپے، ڈی ایم کے کے 22 اراکین کے 31.22 کروڑ روپے، کانگریس کے 99 اراکین کے 22.93 کروڑ روپے، اے آئی ٹی سی کے 29 اراکین کے 17.98 کروڑ روپے اور سماجوادی پارٹی کے 37 اراکین کے اوسط اثاثے 15.24 کروڑ روپے ہیں۔

لوک سبھا میں کئی پارٹیوں کے تمام کامیاب امیدوار کروڑ پتی ہیں۔ ٹی ڈی پی، جے ڈی یو، شیو سینا (یو بی ٹی)، شیو سینا، لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس)، آر ایل ڈی، عام آدمی پارٹی، آئی یو ایم ایل اور این سی پی کے تمام اراکین کروڑ پتی ہیں۔ بی جے پی کے 240 میں سے 227 اراکین (95 فیصد)، ڈی ایم کے کے 22 میں سے 21 (95 فیصد)، کانگریس کے 99 میں سے 92 (93 فیصد)، اے آئی ٹی سی کے 29 میں سے 27 (93 فیصد) اور سماجوادی پارٹی کے 37 میں سے 34 اراکین پارلیمنٹ (92 فیصد) کروڑ پتی ہیں۔

لوک سبھا کے سب سے امیر رکن ڈاکٹر چندر شیکھر پیماسانی (ٹی ڈی پی) ہیں۔ ان کے اعلانیہ اثاثے 5705 کروڑ روپے سے زیادہ ہیں۔ دوسرے نمبر پر بی جے پی کے کونڈا وشویشور ریڈی ہیں، جن کے اثاثے 4568 کروڑ روپے سے زائد ہیں۔ تیسرے نمبر پر بی جے پی کے نوین جندل ہیں، جن کے اثاثے 1241 کروڑ روپے سے زیادہ ہیں۔ اس کے بعد ٹی ڈی پی کے پربھاکر ریڈی ویمی ریڈی اور بی جے پی کے سی ایم رمیش کا نمبر آتا ہے۔

راجیہ سبھا کے سب سے امیر رکن ڈاکٹر بندی پارتھ سارتھی (بی آر ایس) ہیں۔ ان کے اعلانیہ اثاثے 5300 کروڑ روپے سے زیادہ ہیں۔ دوسرے نمبر پر بی جے پی کے راجیندر گپتا ہیں، جن کے اثاثے 5053 کروڑ روپے سے زائد ہیں۔ راجیندر گپتا حال ہی میں عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔ تیسرے نمبر پر وائی ایس آر سی پی کے الا ایودھیا رامی ریڈی ہیں، جن کے اعلانیہ اثاثے 2577 کروڑ روپے سے زیادہ ہیں۔

مذکورہ اعداد و شمار صاف بتاتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں مالدار عوامی نمائندوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ لوک سبھا میں کروڑ پتی اراکین کا تناسب ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے، جبکہ راجیہ سبھا کے اراکین اوسطاً کہیں زیادہ اثاثوں کے مالک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کروڑ پتیوں کی تعداد بھلے ہی لوک سبھا میں زیادہ ہو، لیکن اوسط اثاثوں کی بنیاد پر راجیہ سبھا کے اراکین زیادہ مالدار ثابت ہوتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


]

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *