عآپ حکومت نے پہلے مخالفت کی اور اب پنجاب میں نافذ کر دیا ’وی بی-جی رام جی‘ منصوبہ

عآپ حکومت نے پہلے مخالفت کی اور اب پنجاب میں نافذ کر دیا ’وی بی-جی رام جی‘ منصوبہ

’وی بی- جی رام جی‘ منصوبہ کے تحت ایک مالی سال میں دیہی خاندانوں کو 125 دن کے روزگار کی ضمانت دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ ’وکست بھارت @2047‘ کے ویژن کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔



<div class="پیراگراف">
<p>پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان / IANS</p>
</div>
<p>” class=”qt-image”/><img decoding=
صارف
google_preferred_badge

پنجاب کی عآپ حکومت نے ’وی بی- جی رام جی‘ (وکست بھارت گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن-گرامین) منصوبہ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے اس منصوبہ کے نفاذ سے متعلق نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ یکم جولائی سے نافذ ہوگا۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ قبل میں پنجاب حکومت نے اس کے خلاف اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی تھی۔ عآپ حکومت کے اس بدلے رویہ کی وجہ سے اسے کئی حریف پارٹیوں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ’وی بی- جی رام جی‘ منصوبہ کے تحت ایک مالی سال میں دیہی خاندانوں کو 125 دن کے روزگار کی ضمانت دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ ’وکست بھارت @2047‘ کے ویژن کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی ایکٹ (منریگا) کو منسوخ کر کے یہ نیا منصوبہ متعارف کرایا تھا۔ یہ بل گزشتہ سال دسمبر میں پارلیمنٹ سے منظور ہوا تھا، جس کے بعد اسے صدر جمہوریہ کی منظوری حاصل ہوئی تھی۔

کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے 2005 میں منریگا شروع کیا تھا۔ اس کے تحت دیہی خاندانوں کو سال میں 100 دن کام ملنے کی ضمانت دی گئی تھی۔ اب نئے قانون کے تحت ضمانت شدہ روزگار کے دنوں کی تعداد بڑھ کر 125 ہو گئی ہے۔ حالانکہ اس منصوبہ میں کچھ ایسے اصول و ضوابط ہیں، جس پر اپوزیشن پارٹیوں نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اپوزیشن کی حکومت والی 5 ریاستوں (کرناٹک، کیرالہ، پنجاب، تلنگانہ اور جھارکھنڈ) نے ’وی بی-جی رام جی‘ ایکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے اور منریگا اسکیم کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور قراردادیں بھی منظور کی تھیں۔ پنجاب حکومت نے دلیل دی تھی کہ ’وی بی جی رام جی‘ ایکٹ کا خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں، درج فہرست ذاتوں کی برادریوں اور دیہی مزدوروں پر منفی اثر پڑے گا، جو اپنی روزی روٹی کے لیے منریگا پر انحصار کرتے ہیں۔ تاہم، مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے اعتماد ظاہر کیا تھا کہ یہ منصوبہ مزدوروں کی زندگی میں ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس منصوبہ سے آبی تحفظ اور دیہی بنیادی ڈھانچے کی ترقی جیسی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور سڑکیں، پل، اسکول اور آنگن واڑی عمارتیں تعمیر کی جا سکیں گی۔


]

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *