کانگریس صدر نے مزید الزام لگایا کہ بی جے پی مختلف ریاستوں میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے ذریعے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق مغربی بنگال، مہاراشٹر، ہریانہ اور آسام سمیت کئی ریاستوں میں ووٹروں کے اندراج کے عمل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ اقتدار برقرار رکھا جا سکے۔
کھڑگے نے پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت حلقہ بندی اور ’’ایک دیش، ایک چناؤ‘‘ جیسے مجوزہ اقدامات کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حلقہ بندی کے ذریعے پارلیمانی اور اسمبلی حلقوں کی سرحدیں اپنی سیاسی سہولت کے مطابق تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس اس سے پہلے بھی ایسے اقدامات کی مخالفت کر چکی ہے اور آئندہ بھی اس معاملے پر جدوجہد جاری رکھے گی۔